6 اشعار

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا

Agarche tujh se bahut ikhtilaaf bhi na hua

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا

«اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوامگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہوا

تعلقات کے برزخ میں ہی رکھا مجھ کووہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ ہوا

عجب تھا جرم محبت کہ جس پہ دل نے مرےسزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی نہ ہوا

ملامتوں میں کہاں سانس لے سکیں گے وہ لوگکہ جن سے کوئے جفا کا طواف بھی نہ ہوا

عجب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائیبہت دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی نہ ہوا

ہوائے دہر ہمیں کس لیے بجھاتی ہےہمیں تو تجھ سے کبھی اختلاف بھی نہ ہوا

— پروین شاکر