6 اشعار

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

Aks-e-khushboo hun bikharne se na roke koi

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

«عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئیاور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میںمیرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہاس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملےخشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیںاب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیںدل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں