13 اشعار

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

Apni ruswai tere naam ka charcha dekhun

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

«اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوںاک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوںآنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مریبھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاںآج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کراتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیاتجانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسےبوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوںایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرحانگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائےپنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بارخواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیبجی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑےتجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں