8 اشعار

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

Takht hai aur kahani hai wahi

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

«تخت ہے اور کہانی ہے وہی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے حمایت اللہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تخت ہے اور کہانی ہے وہیاور سازش بھی پرانی ہے وہی

قاضی شہر نے قبلہ بدلہلیکن خطبے میں روانی ہے وہی

خیمہ کش اب کے ذرا دیکھ کے ہوجس پہ پہرہ تھا ، یہ پانی ہے وہی

صلح کو فسخ کیا دل میں مگراب بھی پیغام زبانی ہے وہی

آج بھی چہرہ ء خورشید ہے زردآج بھی شام سہانی ہے وہی

بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیباور زخموں کی کہانی ہے وہی

حجلہ غم یونہی آراستہ ہےدل کی پوشاک شہانی ہے وہی

شہر کا شہر یہاں ڈوب گیااور دریا کی روانی ہے وہی​

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں