5 اشعار

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں

Bajā ke aankh mein neendoñ ke silsile bhī nahīñ

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں

«بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںشکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں

نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگیوہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں

یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیںابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں

ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگےابھی تو چاک مرے زخم کے سلے بھی نہیں

خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے مگر اب کےوہ برہمی ہے کہ ہم سے انہیں گلے بھی نہیں

— پروین شاکر