5 اشعار

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

Bakht se koi shikaayat hai na aflaak se hai

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

«بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے ڈاکٹر شعیب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سےوہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نےاور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماںیہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے

ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نےمعجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں