5 اشعار

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا

Bichhṛa hai jo ek baar toh milte nahīñ dekha

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا

«بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھااس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہشپھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیںجس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکنتتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح ہری کر گیا آخروہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا

— پروین شاکر