7 اشعار

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

Ek hunar thā kamāl thā kyā thā

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

«اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھامجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھا

تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہادل میں ڈر تھا ملال تھا کیا تھا

برق نے مجھ کو کر دیا روشنتیرا عکس جلال تھا کیا تھا

ہم تک آیا تو بہر لطف و کرمتیرا وقت زوال تھا کیا تھا

جس نے تہہ سے مجھے اچھال دیاڈوبنے کا خیال تھا کیا تھا

جس پہ دل سارے عہد بھول گیابھولنے کا سوال تھا کیا تھا

تتلیاں تھے ہم اور قضا کے پاسسرخ پھولوں کا جال تھا کیا تھا

— پروین شاکر