7 اشعار

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

Harf-e-tāza naī khushboo maiñ likhā chāhtā hai

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

«حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےباب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے

ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کیاور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے

اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہگل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے

ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرےاور یہ صحرا ترا نقش کف پا چاہتا ہے

یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگیاور کچھ روز کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے

رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکنرات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے

تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقیاور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

— پروین شاکر