5 اشعار

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

Justujū kho'e hu'oñ kī umr bhar karte rahe

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

«جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبرشہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کوتیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھیانتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیالجن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں