جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
کلام: پروین شاکر
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبرشہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبرشہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہےدیکھوں تو نظر بدل رہا ہے
کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئیدل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے