11 اشعار

خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم

Khayal o khwab hua barg o baar ka mausam

خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم

«خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسمبچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسم

کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میںٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم

وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آئےسماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کامرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم

وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہےمرے بدن کو ملا ہے چنار کا موسم

رفاقتوں کے نئے خواب خوش نما ہیں مگرگزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم

ہوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیںزمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم

وہ میرا نام لیے جائے اور میں اس کا ناملہو میں گونج رہا ہے پکار کا موسم

قدم رکھے مری خوشبو کہ گھر کو لوٹ آئےکوئی بتائے مجھے کوئے یار کا موسم

وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائےمرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم

ترے طریق محبت پہ بارہا سوچایہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں