اتنا معلوم ہے!
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میںروز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میںروز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسمبچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسم
کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میںٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
نئی جگہ تھی دور دور تک آخر پر دیواریں شب کیکچھ یاروں نے برپا کر دی اک محفل کچھ اپنے ڈھب کی
اونچے در سے داخل ہو کر صاف نشیب میں بیٹھے جا کرایک مقام میں ہوئے اکٹھے رونق اور ویرانی آ کر
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں
نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھایوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں