6 اشعار

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں

Khushi ki baat hai ya dukh ka manzar dekh sakti hoon

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں

«خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں

ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیامگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں

مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشیمیں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں

کنارہ ڈھونڈنے کی چاہ تک مجھ میں نہیں ہوگیمیں اپنے گھر میں اک ایسا سمندر دیکھ سکتی ہوں

وصال و ہجر اب یکساں ہیں وہ منزل ہے چاہت میںمیں آنکھیں بند کر کے تجھ کو اکثر دیکھ سکتی ہوں

ابھی تیرے سوا دنیا بھی ہے موجود اس دل میںمیں خود کو کس طرح تیرے برابر دیکھ سکتی ہوں

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں