خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
کلام: پروین شاکر
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں
ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیامگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں
ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیامگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں
مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے
میری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی