8 اشعار

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا

Tarash Kar Mere Bazoo Udaan Chhod Gaya

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا

«تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا

رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھازمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھیکھلے دریچے پہ اک پھول دان چھوڑ گیا

جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھابڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا

نکل گیا کہیں ان دیکھے پانیوں کی طرفزمیں کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا

عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سےجو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا

نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہےکہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا

عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگلکس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں