18 اشعار

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

Teri Khushboo Ka Pata Karti Hai

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

«تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہےمجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے

چوم کر پھول کو آہستہ سےمعجزہ باد صبا کرتی ہے

کھول کر بند قبا گل کے ہواآج خوشبو کو رہا کرتی ہے

ابر برستے تو عنایت اس کیشاخ تو صرف دعا کرتی ہے

زندگی پھر سے فضا میں روشنمشعل برگ حنا کرتی ہے

ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعترات جب شعر کہا کرتی ہے

شب کی تنہائی میں اب تو اکثرگفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے

دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیںجو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

زندگی میری تھی لیکن اب توتیرے کہنے میں رہا کرتی ہے

اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھدل کا احوال کہا کرتی ہے

مصحف دل پہ عجب رنگوں میںایک تصویر بنا کرتی ہے

بے نیاز کف دریا انگشتریت پر نام لکھا کرتی ہے

دیکھ تو آن کے چہرہ میرااک نظر بھی تری کیا کرتی ہے

زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنیرنج ملنے کا سوا کرتی ہے

شام پڑتے ہی کسی شخص کی یادکوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھافیصلہ صرف ہوا کرتی ہے

مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوکحال جو تیرا انا کرتی ہے

دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاںبات کچھ اور ہوا کرتی ہے

— پروین شاکر