6 اشعار

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Us Se Kya

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

«ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا

تم موج موج مثل صبا گھومتے رہوکٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤمیں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا

ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرضسیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا

لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدوتم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیےتنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں