17 اشعار

وہی نرم لہجہ

Wahi narm lehja

وہی نرم لہجہ

«وہی نرم لہجہ» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسے

دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو

کس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہ

کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگے

جیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہ

کسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگے

جیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھم

کہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھر

اس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوں

وہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گا

جیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہن

سرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کو

گاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہ

بھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسے

اور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہ

کہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہے

جو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں