12 اشعار

کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں

Kuch kam hosh yeh kehte hain

کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں

«کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیںکہ اس لڑکی کی شاعری میں سوائے بارش کی ہنسی،

پھولوں کی مسکراہٹ،چڑیوں کے گیتوں

اور اس کی اپنی سرگوشیوں کےاور کچھ نہیں،

اگر زندگی سے محبت کرنا جرم ہےتو یہ لڑکی پورے غرور کے ساتھ

اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے۔نیم خوابی کا فسوں بڑی دیر سے ٹوٹتا ہے،

پر جب ایسا ہواتو روزنِ زنداں سے آنے والی،

اجنبی سیاہ بخت سر زمینوں کی ہواکے آنسوؤں کو اس نے اپنی پلکوں پر محسوس کیا ہے،

ان کا نمکین ذائقہ،اس کی شہد آشنا زبان نے چکھا ہے،

لیکن جو لڑکی بسنت بہار کی نرم ہنسیمیں بھیگ چکی ہو،

اسے خزاں سے دکھ تو ہوسکتا ہے عناد نہیں،جس کے اکیلے گھر میں

شدید چڑیا کا گیت چہرے اگا چکا ہو،اسے سناٹے سے وحشت تو ہوسکتی ہے

نفرت نہیں

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں