11 اشعار

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

Aaj ki shab toh kisi taur guzar jaayegi

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

«آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گیرات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھیمیری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھیزیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیےتیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیےسب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھیآج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگاعشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگا

میرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے

ایک اندیشۂ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیںدیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگ امید کھلے گا کہ بکھر جائے گاوقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گاخواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں