5 اشعار

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا

Woh Hum Nahin Jinhein Sehna Yeh Jabr Aa Jata

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا

«وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتاتری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا

فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفستو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میںکہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیابرابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتےاگر گمان میں انگار قبر آ جاتا

— پروین شاکر