6 اشعار

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

Woh To Khushboo Hai Hawaon Mein Bikhar Jayega

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

«وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گامسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گاکیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہےایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیےموسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگیتیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارثجرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

— پروین شاکر