7 اشعار

وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

Waada-e-hoor pe behlaye hue log hain hum

وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

«وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہمخاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیںجیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیںزر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہےجیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہےزندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم

آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھرجانے کس بات پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیلدرد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں