13 اشعار

بتاؤ کیا خریدو گے

Batao kya kharido ge

بتاؤ کیا خریدو گے

«بتاؤ کیا خریدو گے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

بتاؤ کیا خریدو گے؟جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے

رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے

بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے

یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ رنگا رنگ تقریریںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے

قلم کے معجزے، فکرو نظر کی شوخ تصویریںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قشقے

یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے

یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیںیہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں