9 اشعار

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

Haalaat ke qadmon pe qalandar nahin girta

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

«حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریالیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

سمجھو وہاں پھل دار شجر کوئی نہیں ہےوہ صحن کہ جس میں کوئی پتھر نہیں گرتا

اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی کااس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا

انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کیاتنا تو کبھی کوئی سخن ور نہیں گرتا

حیراں ہے کئی روز سے ٹھہرا ہوا پانیالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا

اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہجو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا

کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سن لےبے بازوئے حیدر در خیبر نہیں گرتا

قائم ہے قتیلؔ اب یہ مرے سر کے ستوں پربھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں