7 اشعار

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

Tum poochho aur main na bataun aise to halaat nahin

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

«تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے حسن سید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیںایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیںساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنیگونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوںتو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہےلیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لوجس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں

میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔجیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں