8 اشعار

جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

Jab tasawwur mera chupke se tujhe chhu aaye

جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

«جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئےاپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خوشبو آئے

مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تکتے رہنارات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے

پیار نے ہم میں کوئی فرق نہ چھوڑا باقیجھیل میں عکس تو میرا ہو، نظر تُو آئے

جب کبھی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کومیری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازو آئے

جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہو گی روشنمجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جگنو آئے

کتنا حساس میری آس کا سنّاٹا ہےکہ خموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگرو آئے

مجھ سے ملنے کو سرِشام کوئی سایہ ساتیرے آنگن سے چلے اور لبِ جو آئے

اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔوہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں