وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
کلام: قتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کریہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کریہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے
مرحلہ رات کا جب آئے گاجسم سائے کو ترس جائے گا
چل پڑی رسم جو کج فہمی کیبات کیا پھر کوئی کر پائے گا