6 اشعار

صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے

Sadme jheelon jaan pe khelon is se mujhe inkar nahin hai

صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے

«صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہےلیکن ترے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں ہے

یہ بھی کوئی بات ہے آخر دور ہی دور رہیں متوالےہرجائی ہے چاند کا جوبن یا پنچھی کو پیار نہیں ہے

ایک ذرا سا دل ہے جس کو توڑ کے بھی تم جا سکتے ہویہ سونے کا طوق نہیں یہ چاندی کی دیوار نہیں ہے

ملاحوں نے ساحل ساحل موجوں کی توہین تو کر دیلیکن پھر بھی کوئی بھنور تک جانے کو تیار نہیں ہے

پھر بھی وہی سیلاب حوادث جانے دو اے ساحل والویا اس بار سفینہ ڈوبا یا اس کے منجدھار نہیں ہے

قید قفس کے بعد کرے گا قید گلستاں کون گوارااب بھی وہی زنجیریں ہیں گو پہلی سی جھنکار نہیں ہے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں