صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
کلام: قتیل شفائی
صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہےلیکن ترے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں ہے
یہ بھی کوئی بات ہے آخر دور ہی دور رہیں متوالےہرجائی ہے چاند کا جوبن یا پنچھی کو پیار نہیں ہے