تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
کلام: قتیل شفائی
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیںایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیںساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں