پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
کلام: قتیل شفائی
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیےپھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے
پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیےپھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیےپھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے
پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیےپھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے
وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہمخاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم
یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیںجیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم