6 اشعار

‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

Shabon ke des mein hum kis bina pe dat jaate

‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

«‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے‏جہاں چراغ جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے

‏کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکی‏اگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے

‏خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئے‏اگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے

‏وہ خشک لب جو تھرکتے تو مختلف پانی‏سمندروں سے بھی دریاوں میں پلٹ جاتے

‏خدا بدن نہیں رکھتا ورنہ یہ عاصی‏جہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتے

‏تڑپ تڑپ کے بگاڑی ہے ہم نے لاش اپنی‏تو کاٹتا تو بڑی عمدگی سے کٹ جاتے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں