7 اشعار

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے

Gaon bhi mahakta tha itr'ti hawaon se

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے

«گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سےصبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے

خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گادھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے

آئینہ چٹخنے میں دیر کتنی لگتی ہےیوں سوال کرتے ہو گونگی بہری ماؤں سے

سامنے پڑی تھی اور ہاتھ تک لگایا نئیںہم نے اک طرف کر دی دنیا اپنے پاؤں سے

جسم شہر آیا تھا جسم شہر رہتا ہےدل کو لاکھ سمجھایا دل نہ آیا گاؤں سے

آپ نے دیے تھے جو زخم کافی گہرے تھےاب وہ خاصے بہتر ہیں آپ کی دعاؤں سے

خالی کا سے مت پھینکو، آؤ اب کے گلیوں میںدل روانہ کرتے ہیں باندھ کر صداؤں سے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں