5 اشعار

نگاہ تھک ہی گئی انتظار کرکرکے

Nigah thak hi gai intizar kar karke

نگاہ تھک ہی گئی انتظار کرکرکے‏میں لٹ گیا ہوں ترا انتظار کر کر کے

‏بڑھے ہیں نرخ کچھ ایسے یہاں پہ خواہش کے‏گزر رہی ہے ہماری ادھار کر کر کے

ملی نہ بوند کوئی ایک پورے صحرا میںبس آبلے ہیں ملے دشت پار کر کر کے

کہا تھا اس نے کہ وہ لوٹ آۓ گا اک دنگزارتا ہوں ہر اک دن شمار کر کرکے

‏اسے گھمنڈ دیا ہے تو ہم نے خود احمد‏اسی کی یاد کو سر پر سوار کر کر کے

— رانا احمد شہید