5 اشعار

باغ کی شاخوں میں پھر خم آ جائے گا

Bagh ki shakhon mein phir kham aa jaega

باغ کی شاخوں میں پھر خم آ جائے گاپھر سے ُپھولوں کاموسم آ جائے گا

حق کے رستے میں ھم اج اکیلے ہیںاپنے پیچھے کُل عالم آ جائے گا

آج ہوائیں اپنے رخ کو موڑیں گیآج ہمارے دم میں دم آ جائے گا

وقت کے مارے لوگو میری بات سنووقت کے ہاتھوں میں مرہم آ جائے گا

دوست اگر وہ سچا ہے تو غم کیساوہ خوش ہے یا ہے برہم، آ جائے گا

— رانا احمد شہید