5 اشعار

دیا اُس نے حکم سفر میں اکیلا

Diya us ne hukm safar mein akela

دیا اُس نے حکم سفر میں اکیلاپھروں اب کہاں دربدر میں اکیلا

سبھی لوگ یاں پر جڑیں کاٹتے ہیںلگاتا ہوں پھربھی شجر میں اکیلا

جہاں رونق دنیا تو ہے وہاں پرجہاں دشت ویراں اُدھر میں اکیلا

نہیں جب اُمید و توقع کوئی بھیکیوں روتا رہا رات بھر میں اکیلا

ہر اک کو تھا معلوم انجام میرارہا اس سے کیوں بے خبر میں اکیلا

— رانا احمد شہید