6 اشعار

میرے گھر کے آنگن میں خامشی کا ڈیرہ ہے

Mere ghar ke aangan mein khamoshi ka dera hai

میرے گھر کے آنگن میں خامشی کا ڈیرہ ہےاردگرد میرے اب چار سو اندھیرا ہے

میری آنکھیں ظلمت کی اتنی عادی ہو بیٹھیںاب تو میری آنکھوں کو کاٹتا سویرا ہے

مجھ کو چھوڑنا ہے تو یہ تمھاری مرضی ہےہاں مگر بتا دینا کیا قصور میرا ہے

پھر سے حکمرانوں نے کھیت گروی رکھ ڈالےپھر سے میرے گائوں میں بھوک کا بسیرا ہے

عصمتیں جہاں ہر دن تار تار ہوتی ہیںپرسکوں جو پھرتا ہے گا ئوں کا وڈیرا ہے

میرے بچ نکلنے کا کوئی بھی نہیں امکاںآج مجھ کو میرے ہی دوستوں نے گھیرا ہے

— رانا احمد شہید