5 اشعار

‏حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے

Haq ko haq kehne ka hum ne ye asar dekha hai

‏حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے‏نوکِ شمشیر پہ رکھا ہوا سر دیکھا ہے

ہم نے ہر دور میں پھولوں کی تجارت کی ہےدور صحراؤں میں بھی ہن نے شجر دیکھا ہے

‏پھر کوئی آفتِ انجان ہے آنے والی‏حاکمِ شہر نے پھر سے جو ادھر دیکھا ہے

‏خشک سالی ہے یہاں، کس نے کہا ہے تم سے‏ہم نے جو آنکھ بھی دیکھی اسے تر دیکھا ہے

‏اپنا دیوانہ بنایا ہے ہمیشہ کے لیے‏اس نے جس کو بھی فقط ایک نظر دیکھا ہے

— رانا احمد شہید