11 اشعار

میں تو صحراؤں کا مسافر ہوں

Main to sehraon ka musafir hoon

میں تو صحراؤں کا مسافر ہوںمری قسمت میں پیاسا رہنا ہے

مجھ کو اس پر نہ کوئی شکوہ ہےمجھ کو ہنس کر یہ ظلم سہنا ہے

مجھ کو گمنام منزلوں کی طرفاپنا اک اک قدم اٹھانا ہے

سختیاں راستے کی بھول کے سبمجھ کو ہنسنا ہے مسکرانا ہے

مجھ کو معلوم یہ حقیقت ہےمرے رستے میں ریت کے طوفاں

مری ہستی مٹانے آئیں گےاپنی طاقت سے بھاری چٹانیں

مرے اوپر گرانے آئیں گےپر میں ہرگز بھی رک نہیں سکتا

آزمائش میں جھک نہیں سکتااور مجھے یہ یقینِ کامل ہے

ایک دن میرے اس سفر میں کہیںمیٹھے پانی کا چشمہ آئے گا

پھر میں جی بھر کے اس کو پی لوں گااس کے پہلو میں اک سکون سے پھر

عمر ساری میں اپنی جی لوں گا

— رانا احمد شہید