5 اشعار

نظاروں سے بہاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

Nazaron se baharon se mujhe kuch bhi nahin lena

نظاروں سے بہاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا‏فلک کے چاند تاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

‏مجھے اب لاش اپنی اپنے کاندھوں پر اٹھانی ہے‏منافق دوست یاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

‏ٹھکانہ میرا جنگل میں ہے، ویرانے میں، صحرا میں‏چمن اور آبشاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

‏مجھے بیساکھیوں کے بن ہی جینا ہے، میں جی لوں گا‏کہ اب جھوٹے سہاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

کہیں پر ایک مخلص دشمنِ جاں ہو وہ کافی ہےمنافق دوست یاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا

— رانا احمد شہید