5 اشعار

میں ٹوٹ کر پھربکھر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادو

Main toot kar phir bikhar gaya hoon jo ho sake to use bata do

میں ٹوٹ کر پھربکھر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادومیں زندگی میں ہی مر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادو

لبوں پہ اس کے ہنسی کی خاطر، اسی کی اک اک خوشی کی خاطرمیں خود کو قربان کر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادو

ہر اک تعلق میں زخم کھا کر یہ میری حالت سی ہوگئی ہےمیں اپنے سائے سے ڈر گیا ہوں، جو ہو سکے تو اسے بتا دو

تھیں جس کے دم سے تمام خوشیاں اسی کے دم سے میں رنج و غم کیہر ایک حد سے گزر گیا ہوں، جو ہو سکے تو اسے بتا دو

جو میں نے اس سے کہا تھا احمد بغیر اس کے میں جی ہی لوں گامیں بات کر کے مکر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتا دو

— رانا احمد شہید