5 اشعار

تیری آنکھ کا ایک اشارہ ہوتا ہے

Teri aankh ka ek ishara hota hai

تیری آنکھ کا ایک اشارہ ہوتا ہےدل کا موسم کتنا پیارا ہوتا ہے

میرے دل پر ہاتھ ذرا رکھ کر دیکھوہر دھڑکن میں نام تمہارا ہوتا ہے

تیرے لب کے جام کہاں اپنی قسمتاپنا تو خوابوں پہ گزارا ہوتا ہے

جب بھی بیٹھے تیری زلف کی چھائوں میںموسم گل پھر صرف ہمارا ہوتا ہے

جیت گیا وہ سب کچھ دنیا میں احمدعشق میں جان و دل جو ہارا ہوتا ہے

— رانا احمد شہید