5 اشعار

تیری راہ تک رہی ہیں میری بیقرار آنکھیں

Teri raah tak rahi hain meri beqarar aankhen

تیری راہ تک رہی ہیں میری بیقرار آنکھیں‏صبح شام کر رہی ہیں ترا انتظار آنکھیں

مری جسم کی زمیں تو کئی سال سے تھی بنجرمرے دل میں گل کھلائیں تری مرغزار آنکھیں

‏میرے خواب ریزہ ریزہ، مرا جسم چھلنی چھلنی‏مرا دل بجھا بجھا سا، میری اشکبار آنکھیں

‏مرے لب کا یہ تبسم، مری داستاں نہیں ہے‏مری داستاں سنائیں مری سوگوار آنکھیں

‏کوئی اور وعدہ کرتے ہوئے پہلے سوچ لینا‏کہیں پھر سے ہو نہ جائیں تری شرمسار آنکھیں

— رانا احمد شہید