5 اشعار

اس کو دیکھا تو میری آنکھ سے برسے آنسو

Usko dekha to meri aankh se barse aansoo

اس کو دیکھا تو میری آنکھ سے برسے آنسوعمر بھر جس کی جھلک کے لیے ترسے آنسو

اس کے گھر میں تھا چراغاں، تھی ہر اک سو رونقجس کے دم سے ہیں نکلتے میرے گھر سے آنسو

ہونہ جائے کہیں وہ بھی جہاں بھر میں رسواہم نے روکے رکھے اس بات کے ڈر سے آنسو

جس قدر ٹوٹ کے شدت سے انہیں چاہا ہےاب کہاں جائیں گے اٹھ کر میرے در سے آنسو

یوں بنے بیٹھے ہیں ہم آج سراپاء غماب نکلنے لگے ہیں پاوٗں سے، سر سے آنسو

— رانا احمد شہید