6 اشعار

یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے

Ye khushkhabri hai ya ik sanha hai

یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے‏تماشہ گر تماشہ بن گیا ہے

‏جسے تم قتل کرنے جا رہے ہو‏تمہارے روبرو وہ آ کھڑا ہے

‏گرہیں تم نے جو ہاتھوں سے لگائیں‏انہیں دانتوں سے ہی اب کھولنا ہے

‏تم اپنے کام ہی سے کام رکھو‏مرا یہ مخلصانہ مشورہ ہے

‏مجھے حکمِ اذاں ہے یاد رکھو‏مجھے لکھنا ہے، مجھ کو بولنا ہے

‏ہوس سے لحد میری منتظر ہے‏زمیں کو جسم میرا نوچنا ہے

— رانا احمد شہید