12 اشعار

صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری

Subh ka sail thama, shaam ki naddi utri

صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری

«صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری» سعید شارق کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتریاور پھر شب کی خُنک جھیل میں کشتی اُتری

یونہی کُھلنا تھا کہاں سحرِ شبستاں مجھ پر!خواب پہنا تو مِری آنکھ سے پٹّی اُتری

مدتّوں بعد کسی یاد نے اخروٹ دھرےڈرتے ڈرتے شجرِ دل سے گُلہری اُتری

مَیں وہ تہ خانہ ہوں جو تُجھ سے بھرا رہتا تھاپھر کسی روز اُداسی مِری سیڑھی اُتری

ان گنت شہروں سے گُزری تھی مِرے خواب کی ریلجانے کس وقت، کہاں، کون سواری اُتری!

پاؤں اُٹھتے ہی نہ تھے بارِ پشیمانی سےموچ آئی تو مِرے سر سے یہ گٹھڑی اُتری

اُس طرف بیلیں چڑھیں ہجر کی دیواروں پراور اِدھر پیڑ کی جڑ تک کوئی آری اُتری

ایک سا غم ہے مجھے اور مِرے آئینے کواُس کی صورت بھی نظر آتی ہے اُتری اُتری

ایسے عالم میں کوئی اور کہاں کام آیا!نا اُمیدی تھی، سو اُمّید پہ پُوری اُتری

دفعتاً کُھل گئی دوشیزہء دُنیا مجھ پریک بہ یک بال کُھلے، ساتھ ہی ساڑھی اُتری

کیا کہوں! جِسم ہے تُو یا کوئی دریائے رواں!تُجھ کو چُھوتے ہی مِرے ہاتھ سے مٹّی اُتری

مَیں نے بھر بھر کےپیے ضبط کے آنسو، شارقتب کہیں جا کے مِرے حلق سے ہڈّی اُتری

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں