6 اشعار

کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا

Khade hi reh gaye, main aur intizaar mera

کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا

«کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرامذاق اُڑاتی رہی، گردِ رہ گُزار، مِرا

مَیں کش لگاتا ہوں اور آپ جھڑتا جاتا ہوںسُلگ رہا ہے مِری راکھ سے سگار مِرا

یہ دل یہ گرد بھرا تخت، روز کہتا ہے:کہاں گیا ہے ترا غم؟ وہ شہریار مِرا؟

گِرا ہے مجھ سے بہت دُور لمحۂ امروزکوئی دبوچ نہ لے جائے یہ شکار مِرا!

نہ جانے کب مجھے رُوپوش ہونا پڑ جائے!سو چل رہا ہے مِرے ساتھ ساتھ غار مِرا

نگاہ پڑتے ہی مَیں ڈُوب ڈُوب جاتا ہوںبھرا ہُوا ہے عجب مچھلیوں سے جار مِرا

— سعید شارق