سعید شارق کا کلام
- 01 اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی! Akele saalgirah main ne kab manayi thi! آواز میں دستیاب
- 02 اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی Us bus mein hoon jis ki koi khidki nahin khulti آواز میں دستیاب
- 03 پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے Pur nahin hai meri jagah mujh se آواز میں دستیاب
- 04 کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا Khade hi reh gaye, main aur intizaar mera آواز میں دستیاب
- 05 صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری Subh ka sail thama, shaam ki naddi utri آواز میں دستیاب
- 06 ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر Abhi nigah padi bhi na thi khazane par آواز میں دستیاب
- 07 جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا Jaam-e-hasti khushi khushi bharta آواز میں دستیاب
- 08 کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں! Kya jaane kitna arsa lage meri bell mein! آواز میں دستیاب
- 09 تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی Takti thi woh chaṭaan mujhay hi ghaṛi ghaṛi آواز میں دستیاب
- 10 آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے! Aankhoñ mein jam gaye hain nishaan, kaisi bhaap ke! آواز میں دستیاب
- 11 صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک Subah se kaṭna paṛega shaam tak آواز میں دستیاب
- 12 سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی! Seene mein ik kitab hai kab se khuli paṛi!
- 13 کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو! Kab sabqa ghulaam se khatra hai shah ko! آواز میں دستیاب
- 14 اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں Atne lagi hai saañs ghubar-e-malal mein آواز میں دستیاب
- 15 منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری Manzar samete, khwab sambhale, nami bhari آواز میں دستیاب
- 16 شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گِری تھی لان میں Shaam ki sard sard dhoop thak ke giri thi lawn mein آواز میں دستیاب
- 17 چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک Cheekh utthay peṛ, kaanp gaya kohsaar tak آواز میں دستیاب
- 18 چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی Chori chhupay jo milti rahi, barmala mili آواز میں دستیاب
- 19 مَیں خلا ہوتا تھا، مجھ کو کیسی دُنیا کر دیا! Main khala hota tha, mujh ko kaisi dunya kar diya! آواز میں دستیاب
- 20 کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور! Kehta hai koi ho ke baham: ek qadam aur!
- 21 سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے Seene mein panje gaad ke, gardan daboch ke آواز میں دستیاب
- 22 مَیں اپنے عَقَب میں ہوں، گلی ہے مِرے پیچھے Main apne aqab mein hoon, gali hai mere peechhe آواز میں دستیاب
- 23 مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں Meri chamak damak ab jauhari ko yaad nahin آواز میں دستیاب
- 24 دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے Dekh! Daftar mein hoon, kaam ka waqt hai آواز میں دستیاب
- 25 گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے! Guzra hai kaisa waqt meri kaaynaat se! آواز میں دستیاب
- 26 توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں Tod sakoon na koi qufl, door kahin na ja sakoon آواز میں دستیاب
- 27 خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر Khud khidkiyan khulne lagin, khud band hua dar آواز میں دستیاب
- 28 کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے: Kehne laga yeh, Ghaar-e-Hira, Koh-e-Toor se:
- 29 دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں Deewar gira ke dekhta hoon آواز میں دستیاب
- 30 کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں! Kis abr-e-rawan ke sar gaye hain! آواز میں دستیاب
- 31 نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے Nikalne ko, wohi roz-o-shab, dafeene se آواز میں دستیاب
- 32 قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے Qadam qadam pe tere hijr ki chadhai hai آواز میں دستیاب
- 33 گرچہ کمرے میں اندھیرا تھا بہت Garchay kamre mein andhera tha bahut آواز میں دستیاب
- 34 سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں Sabhi samajhte hain ab bhi akad ke chalta hoon آواز میں دستیاب
- 35 مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں! Mujh mein jitne bhi tere shehr hain, barbaad karoon! آواز میں دستیاب
- 36 راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں! Raakh mein dhal raha hoon main, phir bhi koi dhuan nahin! آواز میں دستیاب
- 37 روشن پہاڑیوں سے اُدھر، کوہِ تار میں Roshan pahadiyon se udhar, koh-e-taar mein آواز میں دستیاب
- 38 یہ شکستہ آئنہ توڑنا نہیں چاہتا Yeh shikasta aaina todna nahin chahta آواز میں دستیاب
- 39 میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے Meri deewar se veerani ke takrane se آواز میں دستیاب
- 40 جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب Jade ki sard sard hawa mein thitharti shab آواز میں دستیاب
- 41 ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا Tarana, dil pe hai kunda, hamara آواز میں دستیاب
- 42 یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے! Yeh sher luqma-e-gurg-e-fana na ban jaaye! آواز میں دستیاب
- 43 میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا! Main kab ulajhta nahin, kab puzzle nahin hota! آواز میں دستیاب
- 44 کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں! Kaisa darwaza khatkhatata hoon! آواز میں دستیاب
- 45 جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی Jo cheez jahan jaise dhari thi wahin chhodi آواز میں دستیاب
- 46 سیدہء کائنات حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نذر: Sayyeda-e-Kainat Hazrat Bibi Fatima Salam Ullah Alaiha ki nazr:
- 47 جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں Jis qadar batla raha hoon itni qeemat bhi nahin آواز میں دستیاب
- 48 شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گری تھی لان میں Shaam ki sard sard dhoop thak ke giri thi lawn mein آواز میں دستیاب
- 49 ہنسی کا فیصلہ یُوں کالعدم قرار دِیا Hansi ka faisla yun kala-adam qaraar diya آواز میں دستیاب
- 50 تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں! Tere kis kaam ka taqdeer se hara hua main! آواز میں دستیاب
- 51 در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا! Dar-o-deewar ko behla bhi kahan sakta tha! آواز میں دستیاب
- 52 خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی Khud hi girift-e-gham se khushi chhoot jaayegi آواز میں دستیاب
- 53 کوئی نہیں سو اکیلا اُڑان بھرتا ہوں Koi nahin so akela udaan bharta hun آواز میں دستیاب
- 54 کھینچتا جاتا ہے اپنی سمت ویرانہ مجھے Kheenchta jaata hai apni simt veerana mujhe آواز میں دستیاب
- 55 اچانک آنکھ کُھلتی ہے Achanak aankh khulti hai آواز میں دستیاب
- 56 رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے Rakhnon mein apni raakh ke reze samoo diye آواز میں دستیاب
- 57 بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا! Bajuz fana, sar-e-shakh-e-dawam kya hoga! آواز میں دستیاب
- 58 کیا کروں! اتنی مشقّت نہیں ہوتی مجھ سے! Kya karun! Itni mashaqqat nahin hoti mujh se! آواز میں دستیاب
- 59 میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں! Meri bala se ho koi dar par, nahin hoon main! آواز میں دستیاب
- 60 عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر Ajab nahin ke baras jaaye abr, chhaye baghair آواز میں دستیاب
- 61 آہ کی ضرب سے کب قُفلِ فنا ٹُوٹتا ہے! Aah ki zarb se kab qufl-e-fana toot'ta hai! آواز میں دستیاب
- 62 دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے Din ki deewar giri, shab ke dar-o-baam bane آواز میں دستیاب
- 63 گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے! Guzar na jaaye sama'at ke sard khanoon se! آواز میں دستیاب
- 64 مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا! Main khala hota tha mujh ko kaisi duniya kar diya! آواز میں دستیاب
- 65 سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ Salar-e-sipah bhi hain, wazeer-e-shah-e-alam آواز میں دستیاب
- 66 مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے Main apne aqab mein hoon, gali hai mere peechhe آواز میں دستیاب
- 67 کس طرح کہہ دوں کہ اصلاً مَیں تھا! Kis tarah keh doon ke aslan main tha! آواز میں دستیاب
- 68 نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو Neend toote to kisi khwab ki takraar na ho آواز میں دستیاب
- 69 اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر Ek nazar daali thi main ne sookhte ashjaar par آواز میں دستیاب
- 70 بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ Bohat ummeed thi wabasta rahguzar ke saath آواز میں دستیاب
- 71 کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے Kayi naadeeda jahanon ki jagah ban jaaye آواز میں دستیاب
- 72 جس باغ کا پودا ہے اُدھر کیوں نہیں لگتا؟ Jis baagh ka pauda hai udhar kyun nahin lagta? آواز میں دستیاب
- 73 (حضرت عمارؓ بن یاسرؓ کی نذر) (Hazrat Ammar bin Yaasir ki nazr) آواز میں دستیاب
- 74 سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے Sarashk o khoon ke siwa kahin kuch raqam nahin hai آواز میں دستیاب
- 75 ہم اپنے آپ کو جن کا غلام کہتے ہیں Hum apne aap ko jin ka ghulaam kehte hain آواز میں دستیاب
- 76 اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں Ek ek aansoo faqat nazr-e-Muharram kar raha hoon آواز میں دستیاب
- 77 ہر مُسافر کا ہم سفر ہونا Har musafir ka humsafar hona آواز میں دستیاب
- 78 بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے Bujha diya bhi alao mehsoos ho raha hai آواز میں دستیاب
- 79 پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا Pehle khud ko khwab mein bahta dariya hote dekha آواز میں دستیاب
- 80 وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا Wahi chubhta hai, jo ek aadh kinara, toota آواز میں دستیاب
- 81 دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی Dafatan gaal pe ek boond giri, toot gai آواز میں دستیاب
- 82 بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟ Bas raat hai aur kya hai mujh mein? آواز میں دستیاب
- 83 نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے Nikalne ko, wahi roz o shab, dafeene se آواز میں دستیاب
- 84 بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے Bahut pyasa hai ped aur pabrahna chal raha hai آواز میں دستیاب
- 85 کبھی خائف تھا فقط دَر مجھ سے Kabhi khaif tha faqat dar mujh se آواز میں دستیاب
- 86 تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے Teri awaz mein, teri hi hansi, hansti hai آواز میں دستیاب
- 87 خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں Khud hi phoota mere andar se koi beej kahin آواز میں دستیاب
- 88 تکتا ہی رہ گیا مجھے، صیّاد، گھات پر Takta hi rah gaya mujhe, saiyad, ghaat par آواز میں دستیاب
- 89 قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا Qatra qatra nam-e-naadeeda utar jaane diya آواز میں دستیاب
- 90 جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا Jala hua hai na jaane kahan charagh us ka آواز میں دستیاب
- 91 وہی زخم سا، وہی گرد سی، وہی داغ سے Wahi zakhm sa, wahi gard si, wahi daagh se آواز میں دستیاب
- 92 گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے Ghata bhi dheere dheere apne par phaila rahi hai آواز میں دستیاب
- 93 کیا شام تھی روح کے نگر میں! Kya shaam thi rooh ke nagar mein! آواز میں دستیاب
- 94 تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا Teri rag rag mein zehr-e-gham utarna chahiye tha آواز میں دستیاب
- 95 رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں Ranj ki biphri hui lehron se ladta raha main آواز میں دستیاب
- 96 دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے Dil mein utre na udaasi se bhari kehlaye آواز میں دستیاب
- 97 سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے Saans ki dhaar zara ghisti zara kaat-ti hai آواز میں دستیاب
- 98 آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی Aankhein apni theen, gham apna tha, nami apni thi آواز میں دستیاب
- 99 مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا Meri shaakh shaakh thi be-samar, so woh sang haath mein reh gaya آواز میں دستیاب
- 100 کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا Kaise shahron ko fana karta hua guzra tha آواز میں دستیاب
- 101 سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے Sulagte bujhte jazeeron pe nakhl jadti hai آواز میں دستیاب
- 102 میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے Main apne aqb mein hoon gali hai mere peechhe آواز میں دستیاب
- 103 بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ Bahut ummeed thi wabasta rah-guzar ke saath آواز میں دستیاب
- 104 وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے Wahi zakhm sa wahi gard si wahi daagh se آواز میں دستیاب
- 105 خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں Khaak hoti hui lehron ki ham-aaghoshi mein آواز میں دستیاب
- 106 نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے Nikaalne ko wahi roz o shab dafeene se آواز میں دستیاب
- 107 دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں Din guzarta hai kahin shaam kahin raat kahin آواز میں دستیاب
- 108 رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے Rakhnon mein apni raakh ke reze samo diye آواز میں دستیاب
- 109 وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں Waqt hi itna laga shaam ki mismaari mein آواز میں دستیاب
- 110 روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں Roshan pahadiyon se idhar koh-e-taar mein آواز میں دستیاب
- 111 کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے Kabhi khaif tha faqat dar mujh se آواز میں دستیاب
- 112 اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے Ashk kaise ye koi aur nami nikli hai آواز میں دستیاب
- 113 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta آواز میں دستیاب
- 114 دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے Dil mein utre na udaasi se bhari kehlaaye آواز میں دستیاب
- 115 ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی Radaaye ashk mein liptee hui nahin lagti آواز میں دستیاب
- 116 رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں Ragon se yaad ka neela lahu nichodta hoon آواز میں دستیاب
- 117 عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر Ajab nahin ke baras jaaye abr chhaaye baghair آواز میں دستیاب
- 118 گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے Guzar na jaaye sama'at ke sard khanoun se آواز میں دستیاب
- 119 کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں Kasht-e-Diyar-e-Subah Se Taare Ugaoon Main آواز میں دستیاب
- 120 سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے Saans Ki Dhar Zara Ghasasti Zara Kaatti Hai آواز میں دستیاب
- 121 دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی Dekh Paaye To Kare Koi Pazeerai Bhi آواز میں دستیاب
- 122 عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے Ajab Maujoodgi Hai Jo Kami Par Mushtamil Hai آواز میں دستیاب